Human Helping Center
سچا دین

بحکم عدالت قبر یں کھولنے والے ڈاکٹر وں نے قبر کشائی کے رازوں سے پردہ اٹھایا

تحریر: ڈاکٹر نور احمد نور۔فزیشن (ملتان، پاکستان) (July 03, 2016)

اس دفعہ اکثر حالات 2 ڈاکٹر صاحبا ن سے لئے گئے ہیں جو سرکا ری ملا زمین ہیں اور عدالتو ں کے حکم کے تحت قبر کشائیا ں کر تے ہیں تا کہ مو ت کی وجہ کا پتہ چل سکے۔ مرنے کے بعد بحکم عدالت نعش کو قبر سے نکال کر قبر ستان میں اس کا تفصیلی معائنہ کیا جاتاہے اور نعش کے کچھ اجزا ءلیبارٹری میں معائنہ کے لیے بھیجے جا تے ہیں۔ اس سارے عمل کو پوسٹ ما رٹم کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں میت کے رشتہ دار، پولیس پارٹی، ڈاکٹرو ں کی پارٹی اور مجسٹریٹ ہو تاہے۔ میت کے لو احقین قبر کی پہچا ن کر تے ہیں ۔میت کو قبر سے باہر لے آتے ہیں تاکہ معا ئنہ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحبان میں پروفیسر نیا ز احمد بلو چ صاحب، جو نشتر میڈیکل کا لج کے شعبہ ( Forensic Medicine ) کے سر براہ ہیں جو سینکڑوں قبر کشا ئیو ں میں شریک رہے۔ دوسرے ڈاکٹر مہر نور احمد نے لود ھراں کے علاقہ میں بہت قبر کشائیا ں کیں۔ اب میں چشم دید واقعات لکھو ں گا جو ان ڈاکٹر صاحبان نے بتائے۔ 

فرمانبردار بیوی
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے ساتھی کی بیوی فوت ہو گئی۔ جس کے سارے بدن پر بیماری کی وجہ سے ورم تھا۔ اس بی بی نے ایک موٹی سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی جو مرنے کے بعد اتاری نہ جا سکی۔ میت کے خاوند نے اجازت دے دی کہ "انگوٹھی کے ساتھ ہی اس کو دفن کر دیا جائے۔۔!"، دفن کر نے والوں میں ایک شخص لالچی تھا۔ اس نے دفنانے کے بعد اس انگوٹھی کو اتارنے کی ٹھان لی۔

چنانچہ دفنانے کے کچھ دِن بعد اس لالچی شخص نے انگوٹھی لینے کے لیے قبر کو کھول ڈالا تو دیکھا کہ میت تو ایک مسہری پر ریشم کے بستر پر آرام کر رہی ہے اور اس کے اردگرد پردے لگے ہوئے ہیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر اس لالچی شخص پر ہیبت طاری ہو گئی، قبر کو بند کر کے یہ حالات اس نے کئی آدمیوں کو بتائے۔

لوگوں نے مرنے والی عورت کے خاوند سے اُس کی بیوی کے بارے میں پوچھا کہ "اُس کا تمہارے ساتھ کیسا رویہ تھا، جس کے سبب وہ قبر میں اتنے آرام سے ہے۔۔؟"

میت کے خاوند نے بتایا کہ "وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح ایک عورت تھی، مگر 25 سال کی رفاقت میں مجھے نہیں یاد کہ کبھی مجھ سے جھگڑا کیا ہو یا میری نافرمانی کی ہو، خاوند کی اطاعت کا یہ صلہ ملا کہ وہ عالمِ برزخ میں ہی جنت کے مزے لے رہی تھی۔۔۔!"

ایک نمازی کی قبر کا حال
ڈاکٹر صاحب نے ایک اور قبر کشائی کا حال بتایا جس میں قبر میں بدبو اور کیڑے تھے۔ میت کو نکالتے وقت رسیوں اور لکڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ اس عمل میں ساتھ والی قبر کی دیوار کی کچھ اینٹیں گر گئیں۔ تو وہاں سے تیز فرحت بخش خوشبو آنی شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے پہلی قبر کی بدبو ہم سب بھول گئے۔

پوسٹ مارٹم کے بعد اس میت کو زمین کے حوالے کر کے، خوشبو دینے والی قبر کی جستجو میں لگ گئے۔ خوشبو والی قبر 60 سال پرانی تھی، جیسے کہ قبر کے کتبے سے ظاہر تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ "اس قبر والے کا یہ عمل تھا کہ وہ صالح آدمی تھا اور نماز کا پابند تھا، اور پوری زندگی کسی بھی شخص کو اِس خوشبو والی قبر کے صاحب سے شکایت نہ تھی۔۔۔!"

شہید عورت کی قبرکشائی
بند بوسن کی رہنے والی شادی شدہ عورت کو دفن کرنے کے 3 ماہ بعد قبر کشائی کی۔ قبرکشائی کے وقت قبر والی عورت کی ماں ہاتھ جوڑ کر فریاد کر رہی تھی کہ "اُسکے شوہر نے اس کی لڑکی کو مار ڈالا ہے۔" قبر والی عورت کو اس کا خاوند اچھا نہیں سمجھتا تھا کیونکہ اس کے دوسری عورت کے ساتھ تعلقات تھے۔ چنانچہ کسی طریقہ سے مرحومہ کو مار کر رات کے وقت دفن کرا دیا اور رشتہ داروں میں مشہور کر دیا کہ "اس کو سر درد اور بخار ہوا جس میں وہ مر گئی، اندھیری رات اور گھر دور ہونے کی وجہ سے دوسرے رشتہ داروں کو اطلاع نہ کر سکے۔۔۔!"

جب قبر کو کھولا گیا تو خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔ نعش بالکل تازہ تھی، جسم کے تمام حصے ٹھیک تھے۔ مہندی لگی ہوئی تھی، حتیٰ کہ سر کے بالوں کی مانگ ویسے ہی تھی۔ اس قبرستان میں کھجور کے درخت تھے، کھجور کے درخت کی دو جڑیں مرحومہ کے منہ کے اوپر تھیں جن سے وقفے وقفے سے سفید پانی کا قطرہ مرحومہ کے منہ میں جا رہا تھا۔ یہ منظر سب نے دیکھا اور یقین کر لیا کہ یہ بی بی تو شہید ہے، اس کے رزق کا بھی بندوبست ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب مرحومہ کو قبر سے باہر نکال کر پوسٹ مارٹم کرنے لگے تو اُن جڑوں سے نکلنے والا سفید پانی نکلنا بند ہو گیا، اور جب ہم نے اپنا پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کر کے اُسے واپس قبر میں رکھا تو جیسے ہی مرحومہ کا منہ اُن جڑوں کے نیچے آیا پانی نکلنا خودبخود جاری ہوگیا۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں پر موجود سب حاضرین نے کلمہ شہادت، درود شریف پڑھ کر مرحومہ کو ہدیہ کیا اور قبر کو بند کر دیا۔



اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba