Human Helping Center
سچا دین

تقریبا ایک سال تک زمین کے اوپر حضرت سلیمان علیہ السلام کی تروتازہ نعش

تحریر: محمد نوح (January 24, 2016)

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے(سورہ سبا،34:14)

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام تقریباً ایک سال تک اپنے عصاکے سہارے ٹیک لگائے کھڑے رہے پھر اللہ نے دیمک کے ذریعے عصا ختم کیا جس کی وجہ سے جنات کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا انتقال ہوچکا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے کمرے میں تھے اور دیواریں شفاف تھیں جن سے آر پار نظر آتا تھا اس لئے جنات کام کرنے کے دوران انہیں دیکھ سکتے تھے۔اس وقت کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جنات غیب کا علم رکھتے ہیں اور یہ خطرہ تھا کہ وہ لوگ جنات کی عبادت کرنا شروع کرسکتے ہیں اس لئے اللہ نے یہ کام کیا۔

علمائے کرام  کی تفاسیر کے مطابق

تفسیرتذکیرالقرآن:
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرا رہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی۔ مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجود ہیں اور نگرانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصہ کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پا چکے ہیں۔ یہ واقعہ اس صورت میں غالباً اس لیے پیش آیا تاکہ لوگوں کے اس غلط عقیدہ کی عملی تردید ہوجائے کہ جنات غیب کا علم رکھتے ہیں۔ [تفسیرتذکیرالقرآن - مولانا وحید الدین خان]

تفسیر کنزالایمان:
حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کی وفات کا حال جِنّات پر ظاہر نہ ہو "تا کہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے" پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسب عادت نماز کے لئے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہو گئے ، جِنّات حسب دستور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا عرصہ دراز تک اسی حال پر رہنا ان کے لئے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا کیونکہ وہ بارہا دیکھتے تھے کہ آپ ایک ماہ ، دو ٢ دو ٢ ماہ اور اس سے زیادہ عرصہ تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتّٰی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جِنّات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکم الٰہی دیمک نے آپ کا عصا کھا لیا اور آپ کا جسم مبارک جو لاٹھی کے سہارے سے قائم تھا زمین پر آیا ، اس وقت جِنّات کو آپ کی وفات کا علم ہوا ۔[تفسیر کنزالایمان -مترجم مولانا احمد رضاخان بریلوی صاحب مفسر علامہ نعیم الدین مراد آبادی صاحب]

تفسیر ضیاء القرآن:
جنات غیب دانی کا دعویٰ کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے وہ انسانوں پر اپنا رعب بٹھاتے اور انہیں طرح طرح کی ایسی باتیں بتاتے جن کا تعلق امور غیبیہ سے ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے ان کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ا س وقت موت سے ہمکنار کیا جب وہ عصا پر ٹیک لگائے مصروف عبادت تھے آپ کی روح پرواز کر گئی۔ لیکن آپ کا جسم مبارک عصا کے سہارے جوں کا توں کھڑا رہا۔ جنات جو آپ کے حکم سے بڑے کٹھن اور مشقت طلب کاموں میں جتے ہوئے تھے اور آپ کے خوف سے سستی نہ کر سکتے تھے، وہ آپ کو کھڑا دیکھتے تو سمجھتے کہ آپ زندہ وسلامت ہیں، ذرا غفلت برتی تو کھال ادھیڑ لیں گے۔ اسی طرح پورا سال گزر گیا۔ حکم الٰہی سے دیمک نے عصا کو چاٹنا شروع کر دیا۔ نیچے سے اوپر تک اسے کھوکھلا کرنے میں ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔ جب وہ بالکل کھوکھلا ہوگیا اور آپ کا بوجھ نہ سہار سکا تو ٹوٹ گیا اور آپ نیچے زمین پر آرہے۔ تب جنات کو پتہ چلا کہ جس کے خوف سے انہوں نے اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا رکھا وہ تو عرصہ سے وفات پاچکا ہے تو اب ان کے دعویٰ کی حقیقت فاش ہوگئی۔ نیز وہ لوگ جو ان جنات کے غیب دانی کے دعویٰ کو سچا سمجھ رہے تھے انہیں بھی پتہ چل گیا کہ یہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔ یعنی تمام جنوں پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے سردار جو غیب دانی کی لافیں مارا کرتے تھے وہ بالکل جھوٹے تھے اگر انہیں غیب کا علم ہوتا تو وہ سال بھر اپنی جان کو اس مصیبت میں نہ ڈالے رکھتے یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں پر یہ حقیقت کھل گئی کہ جنات کو غیب کا کوئی علم نہیں۔ جنات کے سر غرور کو خاک میں ملانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے شان نبوت کا مشاہدہ بھی کرا دیا۔ عام انسان اگر عصا پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو اور وہ اونگھ جائے تو اس کا توازن برقرار نہیں رہتا۔ اور فورا زمین پر گر پڑتا ہے۔ پھر موت کے بعد چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے جسم میں طرح طرح کے تغیرات رونما ہونے لگتے ہیں ۔ لیکن یہاں آپ سال بھر ٹیک لگائے کھڑے رہے، چہرہ اسی طرح پھول کی طرح شگفتہ رہا۔ بدل بالکل تروتازہ رہا۔ تعفن اور بوسیدگی تو کجا لباس بھی ویسے ہی پاک صاف رہا۔ نہ موسم گرما کی حدت، لو اور حبس نے جسد اطہر کو متاثر کیا اور نہ موسم سرما کا کوئی اثر ظاہر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے بےبصیرت لوگوں کو ظاہری آنکھوں سے مشاہدہ کرا دیا کہ نبی کی ظاہری زندگی کا جاہ وجلال تو تم دیکھتے رہے۔ اب اس کے انتقال کے بعد بھی اس کی شان رفیع کو دیکھو۔ [ تفسیر ضیاء القرآن- پیر کرم شاہ الازہری]

تفسیر عشمانی:
حضرت سلیمانؑ جنوں کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے جب معلوم کیا کہ میری موت آ پہنچی جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں دربند کر کے عبادت الہٰی میں مشغول ہو گئے جیسا کہ آپ کی عادت تھی کہ مہینوں خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کر لی اور آپ کی نعش مبارک لکڑی کے کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہو سکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہو گئ جس عصا پر ٹیک لگا رہے تھے گھن کھانے سے گرا۔ تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات کو خود ا پنی غیب دانی کی حقیقت کھل گئ اور ان کے معتقد انسانوں کو بھی پتہ لگ گیا کہ اگر انہیں غیب کی خبر ہوتی تو کیا اس ذلت آمیز تکلیف میں پڑے رہتے۔ حضرت سلیمانؑ کی وفات کو محسوس کرتے ہی کام چھوڑ دیتے۔ اسی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ شیاطین وغیرہ کی تسخیر کچھ حضرت سلیمانؑ کا کسبی کمال نہ تھا محض فضل ایزدی تھا۔ جو اللہ چاہے تو موت کے بعد ایک لاش کے حق میں بھی قائم رکھ سکتا ہے۔ نیز سلیمانؑ پر زندگی میں جو انعامات ہوئے تھے یہ اس کی تکمیل ہوئی کہ موت کے بعد بھی ایک ضروری حد تک انہیں جاری رکھا گیا۔ اور بتلا دیا کہ پیغمبروں کے اٹھائے ہوئے کاموں کو اللہ تعالیٰ کس تدبیر سے پورا کرتا ہے۔ [تفسیر عشمانی: مولانا شبیر احمد عشمانی]

اس آیت کے تحت چند استدلال :

۱) انبیاء کرام کی نعش ہائے مبارکہ خواہ زمین کے اندر ہوں یا زمین کے اوپر وہ تروتازہ ہی رہتی ہیں
۲ ) چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش زندہ انسان کی طرح تروتازہ رہی اس لئے جنات کیلئے ہرگز ممکن نہ ہوسکا کہ وہ ظاہری لاش کو دیکھ کر مردہ اور زندہ انسان میں فرق محسوس کرپاتے۔
۳) لوگوں کو باطل معبودوں کی عبادت سے روکنے اور جنات کو علم غیب حاصل ہونے کی حقیقت دکھانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی لاش کو زمین کے اوپر ایک سال تک رہنے دیا اورایک لاش کے ذریعے یہ کام لیا جس سے ثابت ہوا کہ کسی اہم مقصد کی خاطر لاش زمین کے اوپر رہنے دینا اللہ کی سنت رہی ہے۔

لہذاقرآن کریم کی آیت، حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ اور تفاسیر سے جو علم حاصل ہوا ہے اس کی روشنی میں باآسانی یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ اگر آج اکیسوی صدی میں چند شہید مسلمانوں کی تازہ خون والی لاشوں کو زمین کے اوپر رکھ دیا جائے تاکہ پانچ ارب کافروں پر اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات ،محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری اور سچے رسول ،قرآن کلام الٰہی اور اسلام سچا دین ہونا ثابت کردیا جائے تو یہ بالکل جائز ہوگا۔

جب ہم شہید مسلمانوں کی تازہ خون سمیت تروتازہ لاشوں کے ذریعے دنیا بھر کے کافروں کو اللہ کے وجود پر قابل مشاہدہ ،ناقابل شکست، غیر جانبدار ، فطری اور عملی روشن دلیل کو آنکھوں سے دیکھنے، چیک کرنے اور تصدیق کرنے کا موقع دیں گے تو دنیا بھر کے اربوں کافر مسلمان ہوکراسلام میں جوق در جوق داخل ہونا شروع ہوسکتے ہیں اور بغیر کسی جنگ کے تقریباًساری دنیا پر اللہ کے حکم سے دین اسلام کا غلبہ آسانی سے ہوجائے گاجس سے مسلمانوں کے خلاف کفار کا زور ٹوٹ سکے گا۔انشاء اللہ۔



اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba