Human Helping Center
سچا دین

67 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی تروتازہ محفوظ نعشیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (November 09, 2009)

یہ واقعہ تو سب کو معلوم ہے کہ غزوۂ احد میں 70صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے تھے جن میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ تھے۔ علامہ بنوری حج گروپ کے ہمراہ2008ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے حج پر جانے کی توفیق ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ادائیگی حج سے پہلے گروپ لیڈر جناب بھائی رفیق شیخ صاحب نے ایک دن ہم لوگوں کو زیارات مقدسہ کیلئے بذریعہ بس لے جانے کا اعلان کیا۔

چناچہ مکہ مکرمہ کے مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے ہم لوگ میدانِ احد پہنچے جہاں اسلام و کفر کے مابین دوسری جنگ لڑی گئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس میدان میں ایک چار دیواری ہے جس کا دروازہ لوہے کی جالی دار چادر سے بنا ہوا ہے اوردروازہ کے علاوہ دیگر اطراف میں بھی زائرین کی سہولت کیلئے لوہے کی جالی دار کھڑکی بھی لگی ہوئی ہے۔اس چار دیواری کے اندر چند قبریں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں موجود ترجمان نے بتایا کہ اس چار دیواری میں 67شہید صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی نعش ہائے مبارکہ محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ان تمام شہیدوں کی قبریں مختلف جگہ پر واقع تھیں ۔ سعودی حکومت نے بعد میں ان تمام قبروں سے لاشوں کو منتقل کرکے اس چار دیواری کے اندر یکجا طور پر دفن کیا جن کی تعداد 67تھی۔ جب ان شہیدوں کی نعشیں موجودہ جگہ منتقل کی جارہی تھیں تو بعض کا جسم کٹا ہوا تھا اور بعض کا جسم زخمی تھا اور جسم کے ٹکڑے ہونے کے باوجود بھی وہ صحیح و سالم تھا حالانکہ ان کو دفن کئے ہوئے بھی صدیاں بیت گئی تھیں۔قارئین گرامی!یہ واقعہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔آج بھی آپ لوگ ان حجاج کرام سے پوچھ سکتے ہیں جو غزۂ احد کی زیارت کرچکے ہوں۔



اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba