سچا دین

افغانستان میں شہید طالبان کی تازہ لاشیں اور امریکیوں کی بدبودار لاشیں

2003 تحریر: مولانا ابرار عالم (September 25, 2013 | www.rightfulreligion.com)


جامعہ بنوریہ العامیہ سائٹ ایریا کراچی کے ڈرائیور، جناب وصی احمد صاحب کے توسط سے یہ معلوم ہواکہ افغانستان میں جتنے بھی طالبان قتل ہوئے ان سب کی نعشیں بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔ جبکہ امریکی اور نیٹو کے فوجی جب قتل ہوتے ہیں تو ان کی لاشیں محفوظ نہیں رہتیں اور یہ کہ اگر انہیں سرد خانے میں نہ رکھا جائے تو ان کے جسموں سے چند دن بعد ہی بدبو آنے لگتی ہے۔
اس بات کا فرق امریکی فوجیوں نے واضح طور پر دیکھا تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آخر یہ کیا بات ہے کہ طالبان کے جسم کئی کئی دن تک میدان میں پڑے ہوتے ہیں لیکن سڑتے گلتے نہیں اورنہ ہی ان سے بدبو آتی ہے۔جبکہ ہمارے فوجیوں کی لاشیں بدبودار ہوکر سڑنے گلنے لگتی ہیں اگر انہیں چند دن نہ اٹھایا جائے۔

ان میں سے کسی نے سوچا ہوگا کہ شاید ماحول کا اثر ہو کہ طالبان چونکہ یہاں کے ماحول میں رہنے والے ہیں اس بنا پر ان کے جسم سڑتے گلتے نہیں اور ہم لوگ چونکہ اس ماحول کے عادی نہیں ہیں اس بناپرہمارے فوجیوں کی لاشیں چند دن بعد ہی سڑنے لگتی ہیں۔


چنانچہ ان لوگوں نے اپنے فوجیوں کی لاشوں کو افغانستان کے ماحول سے نکالا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ماحول کے بدلنے سے کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں۔ مگر یہ بات غلط ثابت ہوئی اور افغانستان کے ماحول سے باہر لے جانے کے بعد بھی ان کی لاشیں خراب ہونے لگیں تب ان پر یہ حقیقت کھلی کہ یہ حفاظت ماحول کے فرق کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہب کے فرق کی بنا پر ہے۔ 

مجھے یہ واقعہ بیان کرنے والے وصی احمد صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس حقیقت کے جاننے کے بعد وہ امریکی فوجی مسلمان ہوئے یا نہیں؟ بہرحال ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے لہذا میرے خیال کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض خفیہ طور پر مسلمان بھی ہوجاتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔



اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں: